عوامی حقوق کی تحریک میں احتجاجی مارچ میں‌پولیس و شہریوں‌کی ہلاکت کا ذمہ دار وزیراعظم، جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ سامنے آگیا

67

مظفرآباد (سٹیٹ ویوز)جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلامیہ میں عوامی حقوق کی تحریک اور احتجاجی مارچ کے دوران پر تشدد ہتھکنڈوں، عوام کو اشتعال دلانے اور مظفرآباد میں تین شہریوں کی شہادت کی ذمہ داری وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق اور وزیر داخلہ پر عائد کرتے ہوئے ہائی کورٹ ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن قائم کرتے ہوئے پولیس افسر کی شہادت کی بھی تحقیات کا مطالبہ کر دیا گیا۔ انڈین فنڈنگ کے الزامات بے بنیاد، الزامات لگانے والوں کے اثاثہ جات کی پڑتال کی جائے، گرفتار شہریوں کی رہائی کی جائے اور ممبران کے خلاف ایف آئی آر ختم کی جائیں، اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائے ، نیشنل گرڈ کے قیام کے ساتھ آزادکشمیر کو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دیا جائے، تمام ہائیڈل پراجیکٹس کے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا اس کا چارٹر آف ڈیمانڈ اور کوڈ آف کنڈکٹ روز اول سے طے شدہ اور واضح تھا اور یہی چارٹر آف ڈیمانڈ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا نظریہ تھا.

اس سے ہٹ کر نہ تو کمیٹی کا کوئی مقصد تھا اور نہ ہی کسی فرد یا جماعت کو کسی دیگر مقصد کے لئے کمیٹی کے احتجاج میں شمولیت کی اجازت تھی.اعلامیے میں کہا گیا کہ آزادکشمیر حکومت نے کمیٹی کے پرامن احتجاج کوکچلنے کے لئے مسلسل غیر قانونی اور پرتشدد ہتھکنڈوں کا استعمال کیا بطور خاص 11 مئی کے پر امن لانگ مارچ کو کچلنے کے لیے 8 مئی سے چادر اور چاردیواری کا تقدس مجروح کرتے ہوئے کمیٹی کے اراکین کو اغواء کرنا شروع کردیا. ایف سی، پی سی، اور رینجرز کو طلب کر کے مختلف شہروں میں فلیگ مارچ کر کے عوام الناس میں اشتعال پیدا کیا. بے پناہ تشدد اور درندگی کے خلاف عوامی ردعمل کو کنٹرول کرنا ناممکن ہوگیا اور کمیٹی کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے واقعات سامنے آئے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے. اعلامیے میں کہا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف بے بنیاد اور گھٹیا الزامات عائد کر کے انڈیا کو عوامی احتجاج کی جانب متوجہ کیا گیا جسکے بعد انڈیا نے عوامی احتجاج کو بنیاد بنا کر اپنے مقاصد کے لئے پراپیگنڈا شروع کر دیا.

ضروری ہے کہ اس تمام معاملہ میں انڈین ہاتھ کے الزامات عائد کرنے والوں سے اس بابت تحقیقات کی جائیں. جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے خلاف انڈین فنڈنگ کا الزام لگانے والوں سمیت آزادکشمیر کے تمام اعلی عہدیداران کے اثاثہ جات کی پڑتال کا مطالبہ کرتی ہے ، اعلامیے کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تسلیم شدہ تمام مطالبات اور معاہدوں اور 4 فروری 2024 کے نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد سے انکار کے باعث 11 مئی کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا. امن اور وسیع تر عوامی مفاد کے پیش نظر حکومت پاکستان کے نمائندوں کی جانب سے براہ راست رابطہ کے بعد راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے فوری عملدرآمد کے لیے کم از کم 3 نکات کے نوٹیفکیشنز کے فوری اجراء پر لانگ مارچ فوری ختم کرنے کا موقف دیا لیکن وفاقی حکومت کے نمائندگان کی جانب سے رات کو انکار اور صبح کے وقت اقرار کے بعد نوٹیفکیشنز کے اجراء میں تاخیر اور انٹرنیٹ کی بندش نے حالات کو خراب کیا .

واضح رہے کہ راولاکوٹ میں رات کو مزاکرات کے بعد کمیٹی کے ساتھ مزید کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ ہوئے صرف نوٹیفکیشنز کے طے شدہ امور کے مطابق اجراء کے لئے فون پر رابطہ ہوتا رہا. اس تمام تر تاخیر اور رینجرز کی مظفرآباد میں آمد کے بعد مظفرآباد میں 3 بے گناہ نوجوان شہید ہوئے . رینجرز کو بلانے اور مقامی انتظامیہ کی راہنمائی اور معاونت کے بغیر نہتے شہریوں پر بے دریغ فائرنگ کی تمام تر ذمہ داری آزادکشمیر حکومت بالخصوص وزیراعظم اور وزیر داخلہ آزادکشمیر پر عائد ہوتی ہے. لہذا جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ آزادکشمیر حکومت کی جانب سے تشدد کو ابھارنے والے تمام اقدامات جو 8 تا 13 مئی 2024 کے درمیانی عرصہ میں پیش آئے اور جس میں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا گیا کی مکمل تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جو تمام واقعات بشمول ڈڈیال کے واقعات، پولیس آفیسر اور مظفرآباد کے نوجوانوں کی شہادت کی مکمل تحقیقات کرے.

وہ تمام حل طلب معاملات یکسو کئے جائیں جنہیں حل کرنے کی ذمہ داری حکومت پاکستان کے نمائندوں نے دوران مذاکرات اٹھائی. عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر میں نیشنل گرڈ کا قیام عمل میں لایا جائے اور آزادکشمیر کو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دیا جائے نیز تمام ہائیڈل پراجیکٹس کے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ محررہ 15 نومبر 2019 پر من و عن عملدرآمد کیا جائے. محکمہ برقیات اور محکمہ خوراک میں ہونے والی کرپشن، بے ضابطگیوں اور صارفین کو لوٹنے کے واقعات کی تحقیقات کے لئے آزادکشمیر ہائی کورٹ کے معزز ججز ہر مشتمل کمیشن قائم کیا جائے.تمام حکمران طبقات کی مراعات ختم کی جائیں اور اس حوالے سے قانون سازی کی جائے. حکومت آزادکشمیر کی جانب سے 4 فروری 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے بقیہ 8 نکات پر عملدرآمد کیا جائے. آبادی کے تناسب سے آٹا کی ایلوکیشن پوری کی جائے، 2022 سے اب تک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان پر وعدہ کے مطابق تمام مقدمات ختم کئے جائیں اور میرپور میں قید 7 اسیران سمیت دیگر تمام اسیران کو فی الفور رہا کیا جائے.

نیز لانگ مارچ کے دوران سیکڑوں زخمی کئے گئے پرامن مظاہرین کی داد رسی کرتے ہوئے متعلقہ ذمہداران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے.متذکرہ بالا مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مورخہ 27 مئی 2024 کو پورے آزادکشمیر، پاکستان، بیرون ملک اور گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے کر کے آئندہ کے سخت ترین لائحہ عمل کا اعلان کرے گی.اعلامیے میں کہا گیا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 11، 12، 13 مئی 2024 تاریخ ساز لانگ مارچ پر ریاست بھر کی عوام کو مبارکباد پیش کرتی ہے جنھوں نے نہ صرف لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کی بلکہ تینوں ڈویژنز میں تاریخ ساز استقبال کئے اور مہمان نوازی کی نئی تاریخ رقم کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں