اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)امریکہ میں مقیم کشمیری سکالر،دانشور اور کشمیر ایوئیرنس فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ میں شعور کی بیداری کیساتھ ریاست پاکستان،اہل پاکستان اور اہل آزاد کشمیر کا شکرگزار ہوں اور اس کیلئے میرے پاس دلیل ہے کہ 05 اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے خلاف امریکہ میں ایک بہت بڑے مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں 35000 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے جن میں مقبوضہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی کل تعداد محض ایک ہزار تھی باقی سارے لوگ پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے تھے اور جب میں تمام تنظیموں کیساتھ وابستہ لوگوں کا شکریہ ادا کررہا تھا تو ایک خاتون اٹھی اور کہا کہ میرا بھی شکریہ ادا کریں ،میں پاکستان سے آئی ہوں اورعیسائی ہوں میرا نام گل ہے میں ناانصافی پر مبنی اس بھارتی اقدام کے خلاف آپ کیساتھ کھڑی ہوں۔
ڈاکٹر فائی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اگر اس وقت کوئی کشمیری عوام کی بات کرتا ہے تو وہ صرف ریاست پاکستان ہے لہذا انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام تر خامیوں اور کمزریوں کے باوجود پاکستان پوری دنیا میں اہل کشمیر اور تحریک آزادی کا وکیل اور پشتبان ہے۔انہوں نے کہا کہ 05 اگست 2019 کے فورا بعد مقبوضہ کشمیر سے ایک ڈاکٹر امریکہ آیا تھا تو انہوں نے کہا کہ بھارت نے جہاں پوری ریاست کو بھارت کے زیر انتظام مرکز میں ضم اور عوام پر فوجی محاصرہ مسلط کیا وہیں اب اسلام کی بیخ کنی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں صرف سرینگر میں بی جے پی کے زیر انتظام 75 سکول قائم کیے جاچکے ہیں جن کا مقصد اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف تعلیم کا پرچار ہے جو کہ خطرناک منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پس پردہ بہت کچھ ہوتا ہے۔
بظاہر امریکہ بھارت کا دوست ہے لیکن مسئلہ کشمیر آج بھی امریکی پالیسی ساز اداروں کے نزدیک ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیر ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں تین سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش ، بارک اوباما اور ڈونل ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ یہ تینوں بھارت کے دوست سمجھے جاتے تھے لیکن ان تینوں نے اپنے اپنے ادوار میں جو پالیسی بیانات دیئے ہیں وہ ہمارے لیے کافی حوصلہ افزا تھے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ کے ایڈیٹر باب وڈوڈ اول آفس میں بارک اوباما کا انٹرویو کررہا تھا تو بارک اوباما نے کہا کہ بھارت ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور اس سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا مستقل ممبر ہونا چاہیے لیکن اس راہ میں اگر کوئی حائل ہے تو وہ تنازعہ کشمیر ہے جبکہ بھارتی میڈیا کیساتھ گفتگو میں بارک اوباما نے پہلے ہی دن کہا تھا کہ مجھے واضح کرنے دیں کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں بلکہ اس کے حل میں کشمیری عوام کی مرضی بھی شامل ہونی چاہیے۔
انہوں نے امریکی ٹائم میگزین کا حوالہ دیا کہ دنیا کے معروف جریدے کیساتھ اوباما نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر ایک درد سر ہے لہذا اس مسئلے کو حل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں بحیثیت ایک ٹیم ہم نے 59 سفارتخانوں اور مشنوں کیساتھ ملاقاتیں کرکے انہیں مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور حقیقی صورتحال سے روشناس کرایا ہے اور ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ فن لینڈ کے سفارت خانے کو کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ میں نے ایک طویل ڈرافٹ تیار کرکے ان کے تین سفارتی عہدیداروں کے حوالے کیا جو تینوں خواتین تھیں کہ وہ فن لینڈ سے واپس آیا اور پھر میں نے فن لینڈ کے وزیر اعظم کے نام دوبارہ بھیج دیا ۔انہوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان اور آزاد کشمیر سے بیرون ملک جاتا ہے وہ بطور سفیر مسئلہ کشمیر اجاگر کرتا ہے وہ چاہیے پاکستان اور آزاد کشمیر کے سرکاری عہدیداران ہوں یا ڈائسپورہ اور سول سوسائٹی کے اراکین ۔
ڈاکٹر فائی نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کی ان کی کاوشوں پر ان کی سراہنا کی کہ وہ سفیر ہی نہیں بلکہ ایک سچے محب وطن ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ پاکستان 2025 اور 26 میں اقوام متحدہ کا غیر مستقل ممبر بننے جارہا ہے اور دنیا اس کی حمایت بھی کررہی ہے لیکن جناب منیر اکرم نے برملا کہا ہے کہ آپ پاکستان کی حمایت کریں بھی تب بھی مسئلہ کشمیر اور فلسطین ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گے۔ڈاکٹر فائی نے شرکا پر زور دیا کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ مایوسی کفر ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے ڈاکٹر فائی کو اعزازی ممبر شپ سے بھی نوازا اور آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے بزنس فورم کے صدر سردار عمران عزیز نے کلب کے عہدیداران کے ہمراہ انہیں ایک شیلڈ بھی پیش کی۔تقریب سے سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی،ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر اور ممبر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر ،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سینئر رہنما غلام محمد صفی،جموں وکشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرمین نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ۔لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار۔جموں وکشمیر بزنس فورم کے صدر سردار عمران عزیز جبکہ صحافی رہنماؤں میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ،نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی۔قائمقام سیکریٹری عون شیرازی۔اے کے این ایس کے صدر امجد چوہدری۔آر آئی یو جے کے سابق صدر عابد عباسی ‘ این پی کی جوائنٹ سیکریٹری سحرش قریشی نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض میں کشمیر کولیشن ڈائسپورہ کے ظفر قریشی،مزمل ایوب ٹھاکر،ڈاکٹر ولید رسول ،امتیاز خان، شہزاد راٹھور ،راجہ بشیر عثمانی،ماجد آفسر،یونائٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن” یکجا” کے صدر عبدالطیف ڈار،مقصود منتظراورچوہدری محمد رفیق کے علاوہ صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔